27

ایپل کی جانب سے خودکار ڈرائیونگ والی گاڑی کی تیاری پر کام تیز

ایپل کی جانب سے خودکار ڈرائیونگ کی صلاحیت رکھنے والی الیکٹرک گاڑی کی تیاری کا عمل تیز کردیا گیا ہے۔

بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق ایپل کی جانب سے اس پراجیکٹ میں ایک بار پھر گاڑی کی خودکار ڈرائیونگ کی صلاحیت پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔

ایپل کی جانب سے گاڑی کی تیاری کی افواہیں کافی عرصے سے سامنے آرہی ہیں۔

2020 میں ایپل کے اس پراجیکٹ سے منسلک متعدد عہدیداران نے کمپنی چھوڑ دی تھی۔

اسی طرح ایپل کو چین کی 2 بڑی بیٹری کمپنیوں سے بیٹری سپلائی کے معاہدوں کے مذاکرات میں رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

دسمبر 2020 میں رائٹرز کی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ایپل کی جانب سے 2024 تک اپنی الیکٹرک گاڑیوں کی پروڈکشن شروع کی جاسکتی ہے۔

اس گاڑی کا دل اس کی بیٹری ہوگی جس میں ‘انقلابی’ مونوسیل ڈیزائن موجود ہوگا۔

اس بیٹری کی بدولت کمپنی کو پاور یل میں زیادہ متحرک میٹریل ایڈ کرنے کا موقع ملے گا، جو ایک چارج پر زیادہ فاصلے کی سہولت فراہم کریں گے۔

ایپل کی جانب سے لیتھیم آئرن فاسفیٹ (ایل ایف پی) بیٹری کیمرسٹری کے استعمال کے امکان پر بھی کام کیا جارہا ہے۔

ایل ایف پی پاور سیلز دیگر کے مقابلے میں زیادہ گرم نہیں ہوتے اور ان کے لیے کوبالٹ کی ضرورت نہیں۔

خبررساں ادارے کو ذرائع نے ایپل کی بیٹری ٹیکنالوجی کے حوالے سے بتایا ‘یہ بالکل نئی ہوگی، بالکل ویسی جیسے لوگوں نے پہلی بار آئی فون میں دیکھی تھی’۔

اس گاڑی میں متعدد لیڈار سنسرز بھی موجود ہوسکتے ہیں تاکہ ارگرد کے ماحول کو سمجھ سکے، جو اس سال کے آئی فون 12 پرو ماڈلز میں بھی دیئے گئے۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ کمپنی کی جانب سے گاڑی کی تیاری کے لیے باہری شراکت دار سے مدد لی جائے گی۔

اس وقت ٹیسلا الیکٹرک گاڑیوں اور خود کار ڈرائیونگ سافٹ کی تیاری میں سرمایہ کاری کررہی ہے جبکہ دیگر کمپنیاں جیسے فورڈ اور جنرل موٹرز بھی اس طرح کی گاڑیوں کی تیاری کے لیے کام کررہی ہیں۔

خیال رہے کہ ایپل نے کبھی بھی عوامی سطح پر ٹائٹن پر کام کرنے کا اعتراف نہیں کیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں