47

ای سی سی نے تیل کی مصنوعات کے پورٹ چارجز میں اضافے کی اجازت دے دی

کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے فوجی آئل ٹرمینل کمپنی (فوٹکو) پر تیل کی مصنوعات کے پورٹ چارجز میں 13 پیسے فی لیٹر اضافے کی منظوری دے دی۔

ساتھ ہی ایک لاکھ 20 ہزار ٹن گندم کی خریداری کے لیے ایک درآمدی ٹینڈر بھی منظور کیا گیا، جس کے آنے کی لاگت تقریباً 2 ہزار 470 روپے فی من ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق وزیر خزانہ شوکت ترین کی سربراہی میں ہونے والے ای سی سی کے اجلاس میں آٹو ڈسپوزایبل سرنجز اور کی مقامی مینوفیکچرنگ کے لیے خام مال کی درآمد کو ٹیکس اور ڈیوٹی سے مستثنیٰ قرار دیا گیا۔ کمیٹی نے 19 ماتحت اداروں، سرکاری کمپنی کے جہازوں کو کارپوریٹ قواعد کی تعمیل سے 6 سے 7 سال تک چھوٹ بھی دی۔

وزارت تحفظ خوراک و تحقیق کی سفارش پر ای سی سی نے وفاقی کابینہ کی جانب سے موجودہ مالی سال میں تزویراتی ذخائر تشکیل دینے کے لیے 40 لاکھ گندم کی خریداری کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے ایک لاکھ 20 ہزار ٹن گندم کی خریداری کا ٹینڈر منظور کیا۔ وزارت تحفظ خوراک کے ذرائع کا کہنا تھا کہ ٹینڈر میں تقریباً 369.69 ڈالر پر فی ٹن گندم حاصل کی گئی جو ڈالر کے ایکسچینج ریٹ 167 کے حساب سے 61 ہزار 740 روپے فی ٹن پڑی۔

ای سی سی نے ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان (ٹی سی پی) کے چیئرمین پر زور دیا کہ وہ مقامی سطح پر قیمتوں کو مستحکم کرنے اور ملک بھر میں گندم کی بلا رکاوٹ فراہمی یقینی بنانے کے لیے گندم کی درآمد کے لیے کوششیں تیز کریں۔ وزارت بحری امور نے ایک سمری پیش کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) کے فوٹکو چارجز مقامی کرنسی کے مطابق ایک ڈالر فی ٹن کے برابر مقرر کیے جائیں اور اسے قیمتوں کے فارمولے میں جولائی 2012 سے شامل کیا جائے گا اور او ایم سی/ڈیلر مارجن سے 1.51 ارب روپے کے واجبات برآمد کیے جائیں۔

اسی طرح جب تک فوٹکو کے ذریعے ایک مخصوص پائپ لائن بچھائی جائے، اس وقت تک موجودہ پائپ لائن کے ذریعے پیٹرول پر وہی ہینڈلنگ ٹیرف لاگو ہونا چاہیے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ 7 فیصد مہنگائی کی شرح کے حساب سے مجوزہ ٹیرف میں تقریباً 13 پیسے (0.0008 ڈالر) فی لیٹر اضافی اثر پڑے گا۔
اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ فوٹکو ٹیرف میں نظر ثانی آپریٹنگ اور دیکھ بھال کے اخراجات کو پورا کرنے کے لیے ضروری ہے جو 20 سال کی مدت کے لیے سال 2000 میں منظور کیا گیا تھا لیکن پھر اس پر نظرثانی نہیں ہوسکی تھی۔

چنانچہ مناسب غور و خوض کے بعد کمیٹی نے فوٹکو کے ٹیرف میں نظر ثانی کی منظوری دے دی، جو 5 سال تک تبدیل نہیں ہوگی اور اس کی ادائیگی پاکستانی روپے کے برابر کی جائے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں