103

مندر کا واقعہ، بھارت کا سخت پراپیگنڈا

پنجاب کابینہ، دو استعفے، فردوس عاشق اعوان پھر وفاقی حکومت میں! O وزیراعلیٰ پنجاب کی موجودگی میں وزیر کا بھائی قتلO افغانستان، طالبان نے عبدالرشید دوستم کے گھر کو جلا دیا۔ پاک افغان سرحد بندO رحیم یار خاں، مندر پر حملہ، حکومت اور سیاسی پارٹیوںکی سخت مذمت، متعدد گرفتار، بھارت کا سخت مراسلہO ن لیگ، نوازشریف فوری سرجری کا فیصلہ O افغانستان کے بارے سلامتی کونسل کا اجلاس، بھارت کی صدارت، پاکستان کو شرکت سے روک دیا گیاO پشاور، مارکیٹوں میں چینی غائب۔
٭پنجاب میں سکیورٹی کی حالت زار! لاہور میں وزیراعلیٰ عثمان بزدار ایک وزیراسد کھوکھر کے فارم ہائوس میں ولیمہ کی تقریب میں گئے۔ باہر نکل کر گاڑی میں بیٹھے۔ انہیں الوداع کرنے کے لئے وزیر اسد کھوکھر کے ساتھ بھائی ملک مبشر کھوکھر بھی باہر آیا۔ ایک شخص ناظم نے پستول سے مبشر کھوکھر پر فائرنگ کر دی، گولی سَر میں لگی اور وہ ہسپتال تک جاتے ہوئے انتقال کر گیا۔ یہ واقعہ وزیراعلیٰ کی موجودگی میں ان سے چند فٹ دور ہوا۔ پولیس نے حملہ آور ناظم کو گرفتار کر لیا، اس کا ایک ساتھی بھاگ گیا۔ فائرنگ کے وقت ولیمہ کی تقریب میں متعدد وزرا، ارکان اسمبلی، اعلیٰ سول و پولیس افسر موجود تھے مگر اندر اور باہر سکیورٹی کا کوئی انتظام نہیں تھا۔ اس بارے میں ملزم کا سنسنی خیز بیان پڑھئے۔ اس نے ابتدائی تحقیقات میں کہا ہے کہ ملک مبشر عرف ملک گوگا میرے بھائی اور چچا کے قتل میں ملوث تھا۔ میں نے اسے قتل کرنے کا منصوبہ بنایا۔ 40 ہزار روپے میں پستول خریدا اور ایک ساتھی کے ہمراہ ولیمہ کی تقریب میں آ کر بیٹھ گیا۔ کسی نے کسی جگہ چیک کیا، نہ روکا۔ تقریب کے دوران ملک مبشر دوبار میرے پاس سے گزرا، میں نے باہر آ کر واردات کا فیصلہ کیا۔ وہ اپنے وزیربھائی کے ساتھ وزیراعلیٰ کو رخصت کرنے آیا تو میں نے فائرنگ کر دی۔
٭قارئین کرام! میں کیا تبصرہ کروں؟ خود دیکھ لیں! ملک کے سب سے بڑے صوبے کا وزیراعلیٰ ایک تقریب میں جاتا ہے۔ وہاں بہت سے وزیربھی بیٹھے ہوئے ہیں۔ وزیراعلیٰ کی نقل و حرکت سے باقاعدہ متعلقہ علاقے کی پولیس کو مطلع کیا جاتا ہے۔ مگر تقریب میں کوئی سکیورٹی موجود نہیں تھی۔ ملزم اگر اندر تقریب کے دوران فائرنگ کرتا تو کتنا بڑا سانحہ ہو سکتا تھا؟ ملزم کو وہاں پولیس نے نہیں، وزیراعلیٰ کے ساتھ آنے والے سکیورٹی والوں نے پکڑا۔ اس کا دوسرا ساتھی بھاگ گیا…اور…اور یہ بھی کہ وزیر کا خاندان قتل و خونریزی میں ملوث ہے!! اِنا للہ و انا الیہ راجعون!!
٭ایک خبر: کراچی کے ایک نجی بنک کی دو شاخوں میں بنک ملازمین کی دیدہ دلیری! بنک کی تجوریوں میں حفاظت کے لئے رکھے جانے والے درجنوں شہریوں کے تقریباً 60 کروڑ مالیت کے زیورات چرا لئے، مارکیٹ میں ان کی معمولی دھات کی نقلیں تیار کرائیںان پر سونے کا پانی پھیرا گیا۔ یہ نقلی زیورات ان تجوریوں میں رکھ دیئے گئے اور تقریباً آٹھ کلو سونے کے اصل زیورات غائب کر لئے! کسی طرح یہ جرم فاش ہو گیا۔ آٹھ بینک ملازمین گرفتار ہو گئے ان سے آٹھ کلو سونے کے زیورات بھی برآمد ہو گئے! استغفار!
٭رحیم یار خاں کے دیہات بلونگ میں ایک مخصوص گروہ نے ہندوئوں کے مندر پر حملہ کر دیا، اندر اور باہر توڑ پھوڑ کی۔ اب تک 20 سے زیادہ افراد گرفتار ہو چکے ہیں۔ پاکستان کے تمام مذہبی و غیر مذہبی عوام، تمام حکومتوں، اسمبلیوں صحافیوں اور اہل علم دانشوروں نے اس مذموم واقعہ کی سخت ترین مذمت کی ہے اور اس مذموم کارروائی کے ملزموں کو سخت سزائیں دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ پاکستان کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے اس سنگین واقعہ کا ازخود نوٹس لیا ہے۔ یہ واقعہ کیوں ہوا؟ اس کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق ایک آٹھ سالہ ہندو بچے نے ایک مدرسہ میں گستاخانہ توہین مذہب کی۔ اس پر اشتعال پھیل گیا اور گائوں کے بہت سے افراد نے مندر پر حملہ کر دیا۔ اس سارے واقعہ کے دوران بھی پولیس یا سکیورٹی کا کوئی فرد موجود نہیں تھا۔ پنجاب انتظامیہ کے حسنِ انتظام کی ایک اور مثال! اس واقعہ کو پنجاب کی حکومت اور انتظامیہ کی ایک عام کوتاہی قرار دے کر دبا دیا جائے گا مگر اس پر بھارت کی حکومت اور میڈیا نے جو طوفان برپا کر دیا ہے اسے کیسے نظر انداز کیا جا سکتا ہے؟ بھارتی وزارت خارجہ نے واضح اعلان کیا ہے کہ بھارت اس واقعہ کو ’ایف اے ٹی ایف‘ کے اگلے ماہ کے اجلاس میں پاکستان کے خلاف استعمال کرے گا! کس کس بات کا ماتم کیا جائے؟
٭دماغ بوجھل ہو رہا ہے۔ چند ہلکی پھلکی باتیں۔ پنجاب کی اطلاعات کی ہر موسم میں ہری بھری معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان نے حسب سابق صبح اٹھتے ہی ن لیگ کی ترجمان مریم اورنگزیب کو مریم نواز اور شہباز شریف کے درمیان فساد پھیلانے والی ’پھپھے کُٹنی‘ قرار دیا۔ مریم اورنگزیب کیا جواب دیتی ہے وہ جانے۔ مجھے ایک دلچسپ واقعہ یاد آ گیا ہے اس سے پہلے یہ بات کہ پھپھے کٹنی اس عورت کو کہتے ہیں جو محلے میں تمام گھروں میں پھرتی رہتی اور اس کے اندرونی رازوں کا کھوج لگا کر محلے میں پھیلاتی رہتی ہے، ساتھ ہی یہ بھی کہتی جاتی ہے کہ دیکھو! میں کبھی کوئی لگائی بجھائی نہیں کرتی، میرا کسی بات میں نام نہ آنے پائے۔ (اصل لفظ پھاپھاکٹنی یا پھاپا کٹنی ہے)۔ اب واقعہ پڑھئے۔ ایک عدالت میں کسی کیس میں گواہی کے لئے ایک بوڑھی عورت پیش ہوئی۔ ایک وکیل نے مخالف وکیل کی طرف اشارہ کر کے پوچھا کہ ’’مائی! تم اس شخص کو جانتی ہو؟‘‘ مائی بولی کہ ہاں ہاں! کیوں نہیں جانتی! سخت دھوکے باز ہے، جھوٹے مقدمے دائر کر کے غریبوں کو لُوٹتا ہے، بازار میں دکانداروں سے قرضے کے نام پر پیسے کماتا ہے! وہ وکیل گڑبڑا گیا۔ اس نے عورت سے کہا کہ مائی تم اس (پہلے والے) وکیل کے بارے میں کیا جانتی ہو؟۔ مائی بولی کہ ’’لو! سارے گائوں میں بدنام ہے۔ میں اسے بچپن سے جانتی ہوں جب یہ خاصی عمر میں بھی محلے میں ننگا پھرا کرتا تھا۔ اب بھی باز نہیں آتا، بیوی گھر میں بیٹھی ہے اور اس نے چار دوسری عورتوں سے تعلقات قائم کر رکھے ہیں۔ جس رات تم بازار حسن میں گئے ہوئے تھے، یہ تمہارے گھر میں تھا!!‘‘ دونوں وکیل بوکھلا گئے تو جج نے دونوں کو بلایا اور سرگوشی کرتے ہوئے کہا کہ ’’خبردار! جو تم نے اس عورت سے میرے بارے میں کچھ پوچھا!‘‘
٭چلتے چلتے! چھوٹی سی بات! پنجاب کی معاون خصوصی اطلاعات فردوس عاشق اعوان کو پھر وفاق میں بلا لیا گیا ہے۔ ایک خبر کے مطابق بہبود آبادی کے محکمہ میں معاون خصوصی ہوں گی۔ یہ محض رسمی عہدہ ہے، اس خاتون کی ن لیگ کے بارے میں نئی نئی موشگافیاں اور پریس کانفرنس اسی طرح جاری رہیں گی۔ فردوس عاشق اعوان کی اہم بات کہ ’’وزیراعظم جس کھیل کے لئے کہیں گے، میں وہ کھیلوں گی!‘‘ (شکر کہ کھل کھیلنے کی بات نہیں کی!) مجھے باکمال شاعرہ پروین شاکر یادا آ گئیں، کیا بات کہہ گئیں کہ:۔
اس شرط پر کھیلوں گی، پیا پیار کی بازی
جیتوں تو تجھے پائوں، ہاری تو تمہاری!
ویسے پتہ نہیں، فردوس عاشق اعوان کے جانے کے بعد پنجاب کا کیا بنے گا؟ کیا رونق لگا رکھی تھی! ہر صبح شام پریس کانفنرنس، نئے نئے مردانہ محاورے! وہ بڑھیا یاد آ رہی ہے جو گائوں والوں سے تنگ آ کر اپنا مرغا اٹھا کر یہ کہتی ہوئی چلی گئی کہ میرا مرغا، بانگیں دے کر تمہیں اٹھایا کرتا تھا، اب نہ مُرغا ہو گا نہ تم اُٹھو گے، اب سوئے رہو دوپہر تک کم بختو!‘

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں