106

لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے

پامسٹری کیا ہے، ہاتھ پر، ہتھیلی اور پشت ہتھیلی پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے تخلیق کردہ لکیروں اور خطوط کا مطالعہ کرنا ، ایک دوسرا وجدان علم بھی ہے اور وہ چہرے کا بغور مطالعہ کرنا ہے چہرہ انسانی احساسات، خوشیوں، غموں، دکھوں، مسرتوں کا آئینہ ہوتا ہے، نجوم کیا ہے؟ انسان کی جب پیدائش ہوتی ہے تو کون سا ستارہ کس برج، کس مقام پر تھا، نجوم ریاضی کے کلیات کے اردگرد بھی گھومتا ہے۔ کائنات بھی ریاضی و انجینئرنگ تخلیق کا الوھی معاملہ ہے۔ یہ سب علوم انسانی ہیں مگر کچھ وہبی ہیں۔ مثلاً چہرے کو پڑھنا، ہاتھوں کی لکیریں اکثر تبدیل ہوتی رہتی ہیں۔ اسی طرح نجوم، ستاروں کا سفر بھی ہوتا رہتا ہے اور ان کا مقام بھی تبدیل ہوتا رہتا ہے۔ یہ سب کچھ خود بخود نہیں ہوتا ہے بلکہ خالق کائنات نے جب کائنات تخلیق کی تو اس کی تاسیسی ہیئت ترکیبی میں یہ سب کچھ سنت اللہ کے طور پر ڈال دیا ہے۔ اسی کا نام قرآنی الفاظ میں ’’تلک الایام نداولھا بین الناس‘‘ (القرآن) ہے کہ ہم ان دنوں کو، (مقدر میں) تبدیلیاں لاتے لیل و نہار کو، انسانوں میں بدل بدل کر نازل کرتے رہتے ہیں اور پارہ 30 سورۃ الشرح آیت نمبر5 ، ترجمہ ’’لازمی طور پر مشکلات کے ساتھ آسانیاں موجود ہوتی ہیں۔ بلاشبہ مشکلات کے ہمراہ آسانیوں کا چلے آنا بھی مقدر ہوتا ہے۔‘‘
تقدیر اور مقدر کیا ہے؟ ذرا پارہ 27سورہ الحدید کی آیت نمبر22کو غور سے پڑھیں ترجمہ: ’’ زمین پر اور تمہارے نفسوں پر، (اجسام و ارواح پر) جو بھی مصیبت نازل ہوتی ہے، یہ سب کچھ مصیبت کے وقوع پذیر ہونے سے بہت پہلے ایک کتاب (مقدر) میں لکھا ہوا موجود ہے (حیران نہ ہوں) یہ معاملہ، تمہاری قسمت، مقدر، فطرت، مزاج شناسی کا معاملہ اللہ تعالیٰ پر تو بہت ہی آسان ہے (کہ وہ تمہارا خالق ہے)
اب سوال یہ ہے کہ اس مصیبت کا نزول کیا خودبخود ہو جاتا ہے؟ نہیں بلکہ یہ نزول مصیبت، وقت نزول مصیبت سے وابستہ ہے اور جب مقدر میں نزول مصیبت ہوتا ہے تو انسانی فطرت میں ایسی تبدیلیاں، مزاج میں ایسی تبدیلیاں وقوع پذیر ہوتی جاتی ہیں کہ نزول مصیبت ہو جائے، پارہ 28سورہ التغابن آیت نمبر11پڑھیں۔ ترجمہ: ’’جو بھی مصیبت تم تک پہنچتی ہے وہ اذن الٰہی سے پہنچتی ہے۔ اور جو اس تکلیف دہ مصیبت کے نزول کے باوجود بھی صرف اللہ تعالیٰ پر ہی ایمان رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس مصیبت سے نجات حاصل کرنے کی راہ کا فہم و ہدایت بھی اسے عطاء فرماتا ہے کہ اللہ ہی تو ہر شی کا علم رکھتا ہے‘‘۔
اب سوال یہ ہے کہ یہ جو مصیبت آتی ہے وہ کیوں آتی ہے؟ تو حضور یہ ابتلاء، آزمائش کے لئے آتی ہے۔ سورہ آل عمران (پارہ 3) کی آیت 186پڑھیں۔ ترجمہ: ’’ لازماً ہم تمہیں اموال اور تمہارے نفوس میں ابتلا سے دوچار کریں گے اور تمہیں اہل کتاب اور مشرکوں سے بہت زیادہ تکلیف دہ معاملات بھی درپیش رہیں گے، اگر تم ان مصائب و مشکلات میں صبر کرتے رہو گے اور تقویٰ اختیار کرو گے تو یہ بہت اہم معاملات شمار ہوتے ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ مسلمان، مئومن کے لئے دنیا جنت کیوں نہیں؟ بلکہ اس کے لئے دنیا تو قید خانہ اور جیل خانہ ہے جب کہ کافر کے لئے دنیا جنت اور سامان راحت زندگی و مسرت کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ، یہ بات میں ایک حدیث نبوی سے اخذ کردہ مفہوم کے طور پر لکھ رہا ہے۔ الفاظ حدیث یہ ہیں (الدنیا سجن للمومن وجنّۃ للکافر) اب سوال یہ ہے کہ کافروں، مشرکوں کے لئے دنیاوی انعامات زندگی اتنے وافر اور مہلت اتنی وافر کیوں ہے؟ اس کا جواب آل عمران ہی کی آیت نمبر178میں یوں ہے ترجمہ: (کافروں کو جو انعامات زندگی کی صورت بہت خیر میسر ہے، اس حوالے سے مت وہ یہ سوچیں کہ ہم نے ان کے ساتھ بہت ہی ’’خیر‘‘ کا معاملہ کر دیا ہے ایسا نہیں ہے بلکہ یہ انعامات، مسرتوں کے سامان کی فراوانی پر مبنی زندگی صرف اس لئے ہے تاکہ وہ مزید گناہ کرلیں کہ بالآخر ان کے لئے سزا کے طور پر توہین سے دوچار کرنے والا عذاب ہے۔‘‘ اس کے مقابل مئومن، مسلمانوں کے لئے خبر ہے کہ ہم تم کو خوف،بھوک، افلاس، فقر، غربت، پھلوں، غذائوں کی شدید قلت سے لازماً دوچار کرکے تمہیں آزمائش سے دوچار کریں گے، القران پارہ 2البقرہ آیت نمبر155 البتہ اگلی آیت میں ہے ’’صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دیں کہ جب انہیں ان بڑی مصیبتوں سے دوچار ہونا پڑتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ہم تو اللہ کی ملکیت ہیں اور ہمیں اللہ ہی کی طرف لوٹ جانا ہے۔ البقرہ کی آیت نمبر86میں ہے کہ ’’ میں اپنے بندوں کی دعا اور پکار کو اسی وقت سن لیتا ہوں جب وہ مجھے پکار رہے ہوتے ہیں یہ مراحل دعاو استجاب، ایمان اور رشد و ہدایت کے لئے ہیں۔ اب یہاں سے دعا ایسا سوال کرنے کا ایمانی سفر شروع ہوتا ہے۔ سورہ الرحمان آیت نمبر29 ترجمہ: ’’ اللہ تعالیٰ سے ہی تو آسمانوں اور زمین میں موجود ہر ذی روح مخلوق ہر لمحہ سوال کرتی رہتی ہے۔ دعائیں کرتی ہیں۔ ایسا اس لئے ہے کہ ہر نئے دن اللہ تعالیٰ نئی شان، نئی کریمی، نئی عطاء کے ساتھ جلوہ گر جوہوتا ہے۔‘‘
ایک سوال یہ ہے کہ انسانوں میں یہ دنوں کی تبدیلی یعنی مقدروں کی تبدیلی کا مقصد کیا ہے؟ آل عمران آیت نمبر140پڑھیں۔ ’’اللہ تعالیٰ لوگوں میں (مقدروں کی صورت) دنوں کی تبدیلی کے مراحل اس لئے عطاء کرتے ہیں تاکہ اللہ تعالیٰ تمہارے حوالے سے علم واقعی کے مراحل سے تمہیں گزارے اور پھر تمہی میں سے گواہ اور شہداء تیار کرے کہ اللہ ظالموں کو ہرگز پسند نہیں کرتا۔‘‘
ان مصائب ، مشکلات سے گھبرا کر اگر کوئی موت کا طلب گار ہونا چاہے تو اس کا جواب آل عمران آیت نمبر145میں یوں ہے ’’کوئی بھی نفس خود بخود اپنی موت آپ نہیں مر سکتا کہ ایسا بھی صرف مگر اذن الٰہی سے ہوتا ہے اور یہ اذن الٰہی بھی ایک خاص طے شدہ وقت سے وابستہ ہوتا ہے۔
مقدر، تقدیر، قضاء کی یہ بحث آئندہ نشست تک ملتوی رکھتے ہیں، چلتے چلتے فیض احمد فیض کا ایک شعر ملاحظہ کریں۔
دل ناامید تو نہیں، ناکام ہی تو ہے
لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے
فیض کا شعر پڑھنے کے بعد پھر ایک مرتبہ سورہ الم نشرح کی آیات پڑھیں۔ ’’ لازمی طور پر مشکلات کے ساتھ آسانیاں بھی موجود ہوتی ہیں، بلاشبہ مشکلات کے ساتھ آسانیوں کا چلے آنا بھی تو مقدر ہوتا ہے۔‘‘

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں